صفحات

Friday, 4 November 2022

شمع کی لو سے کھیلتے دیکھے ہیں میں نے پروانے دو

 شمع کی لو سے کھیلتے دیکھے ہیں میں نے پروانے دو

اک تو موت سے کھیل رہا ہے، اک کہتا ہے جانے دو

میرے بدن پر تم برساؤ پیار کی شبنم حسن کی آگ

یوں گھل مل کر ایک نظر سے ہم پڑھ لیں افسانے دو

جن پر جان لٹا دی میں نے وہ ہی مجھ سے برہم ہیں

رونے پر پابندی ہے تو قہقہہ ایک لگانے دو

تم نے پلائی جتنی پلائی دیکھو ہیں پیاسے رند ابھی

ساقی گری سے ہاتھ نہ کھینچو سب کی دعا لو آنے دو

مے سے میں توبہ کر لوں گا یہ لو میری توبہ ہے

پہلے میرے ہاتھوں میں اپنی آنکھوں کے میخانے دو

اس کا کام ہے کہتا رہنا اپنا کام ہے سن لینا

واعظ بھی اپنا ہے کنول تم وعظ اسے فرمانے دو


کنول سیالکوٹی

No comments:

Post a Comment