صفحات

Saturday, 5 November 2022

غبار شعلہ بجاں اب بھٹکنے والا ہے

 غبارِ شعلہ بجاں اب بھٹکنے والا ہے

مِرے سفر کا مقدر چمکنے والا ہے

تِری چٹکتی ہوئی دھوپ کی ہتھیلی پر

سنا ہے رنگ دھنک کا مہکنے والا ہے

تجھے خبر ہی نہیں خواب کے کنارے پر

تُو میری آنکھ سے خوشبو کو تکنے والا ہے

وہ کیا ہے موسمِ ہجرت کے ابر پارے میں

جو بوند بوند ہوا سے ٹپکنے والا ہے

ابھی تو چاند نکلنے کی شادمانی میں

کسی کے خواب سے پردہ سرکنے والا ہے

یہی وہ آبلۂ چشم کا شگوفہ ہے

جو نوکِ خار پہ اک دن چٹکنے والا ہے

میں اس شرار کو اکسا رہا تھا سانسوں سے

مجھے لگا کہ وہ آنکھیں جھپکنے والا ہے

فریبِ شاخ و شجر، دامِ آب و دانہ سے

نیا پرند کئی دن جھجکنے والا ہے


شفق سوپوری

No comments:

Post a Comment