صفحات

Saturday, 5 November 2022

اک جنگ تھی وہ گرمئ گفتار نہیں تھی

 اک جنگ تھی وہ گرمئ گفتار نہیں تھی

دونوں کی انا مٹنے کو تیار نہیں تھی

اک آنچ کی تھی پھر بھی کسر تیکھے خطوں میں

تصویر بہت خوب تھی، شہکار نہیں تھی

منظر ہے بڑا ہوشربا، دل کو لگا تھا

پر آنکھ مِری دل کی طرفدار نہیں تھی

تعبیر کہاں تھی، وہاں کچھ خواب اُگے تھے

وہ نیند کی وادی تھی جو بیدار نہیں تھی

دھڑکا تھا کوئی، جس نے قدم روک لیے تھے

راہوں میں اگرچہ کوئی دیوار نہیں تھی

ٹوٹا بھی وہاں قہر تو سب شہر پہ ٹوٹا

اب بستی کی بستی تو گنہگار نہیں تھی

جلدی نہ تھی منزل پہ پہنچنے کی کسی کو

چلتے تھے سبھی، تیزی رفتار نہیں تھی

جس نے خلش احساس کو بھی کر دیا زخمی

وہ طنز کی اک کاٹ تھی، تلوار نہیں تھی


رؤف خلش

No comments:

Post a Comment