جہاں بھی لے چلے دل سنگ سنگ پھرتے ہیں
ہم ایسی گردش دوراں سے تنگ پھرتے ہیں
ملے وہ شخص تو کھیلیں وفاؤں کی ہولی
اٹھائے تھال میں رنگوں کے رنگ پھرتے ہیں
کسی کی یاد میں چھانا ہے مال روڈ تمام
کسی کے ہجر میں دن بھر مزنگ پھرتے ہیں
انہیں بتاؤ کہ ہیریں ملیں گی کھیڑوں کو
جو لوگ خواہش قُربت میں جھنگ پھرتے ہیں
دعا ہر ایک سے کروائی، صبر آ جائے
ہمہارے شہر میں جتنے ملنگ پھرتے ہیں
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment