صفحات

Tuesday, 1 November 2022

جہاں بھی لے چلے دل سنگ سنگ پھرتے ہیں

 جہاں بھی لے چلے دل سنگ سنگ پھرتے ہیں

ہم ایسی گردش دوراں سے تنگ پھرتے ہیں

ملے وہ شخص تو کھیلیں وفاؤں کی ہولی

اٹھائے تھال میں رنگوں کے رنگ پھرتے ہیں

کسی کی یاد میں چھانا ہے مال روڈ تمام

کسی کے ہجر میں دن بھر مزنگ پھرتے ہیں

انہیں بتاؤ کہ ہیریں ملیں گی کھیڑوں کو

جو لوگ خواہش قُربت میں جھنگ پھرتے ہیں

دعا ہر ایک سے کروائی، صبر آ جائے

ہمہارے شہر میں جتنے ملنگ پھرتے ہیں


کومل جوئیہ

No comments:

Post a Comment