منہ پہ کیا پوچھنا یوسف سے بُوا میرے بعد
عشق میں نام زلیخا کا ہوا میرے بعد
رات کو خواب میں لیلیٰ نے کہا بندی سے
تُو نے پھر زندہ کیا نام مِرا میرے بعد
سچ میں کہتی ہوں نبی بخش بُرا ہے داماد
رکھے عزت مِری بچی کی خدا میرے بعد
کارخانے میں خدا کے نہیں کچھ دخل بُوا
بچہ تم پہلے جنیں، بیاہ ہوا میرے بعد
منہ پہ جو چاہتیں کہہ لیتی بُرا یا کہ بھلا
ان سے باجی کو نہ کرنا تھا گلا میرے بعد
بھیا فرہاد ہی تھے جان جو دی شیریں پر
تم نہیں ایسے جو دکھلاؤ وفا میرے بعد
بھولی کس برتے پہ ہو یاد رہے اے بنو
اس نصیحت کا اٹھاؤ گی مزا میرے بعد
جیتی جب تک ہوں میں ہے ساری محبت صاحب
ایسے تم بیاہ کرو گے نہ بھلا میرے بعد
دل یتیموں کا بہت ہوتا ہے نازک بنوں
جان صاحب کو گھڑکنا نہ ذرا میرے بعد
میر یار علی جان
No comments:
Post a Comment