صفحات

Friday, 4 November 2022

نظر سے میری خمار اترا تو میں نے دیکھا

 نظر سے میری خمار اترا تو میں نے دیکھا

جو شب کا میرا سنگھار اترا تو میں نے دیکھا

تھے اوٹ میں چاہتوں کی کیا کیا عجیب جذبے

محبتوں کا غبار اترا تو میں نے دیکھا

یہ ناگ تنہائیوں کے گردن میں آ پڑے ہیں

جب اس کی بانہوں کا ہار اترا تو میں نے دیکھا

تمہارا پیکر، تمہارا سایہ، تمہاری خوشبو

جو شب کی آنکھوں میں پیار اترا تو میں نے دیکھا

چمن کہ خون جگر کے قطرے تھے اس میں شامل

جو ان گلوں پر نکھار اترا تو میں نے دیکھا


غزالہ تبسم خاکوانی

No comments:

Post a Comment