فلمی گیت
تو جہاں کہیں بھی جائے میرا پیار یاد رکھنا
تیرے دم سے ہے سلامت یہ بہار یاد رکھنا
تو جہاں کہیں بھی جائے میرا پیار یاد رکھنا
میرے دل میں بس رہی ہے تیری آرزو کی خوشبو
کسی اور کا جہاں میں نہ چلے کا مجھ پہ جادو
تیرے نام پر بٹے کا دل زار یاد رکھنا
تو جہاں کہیں بھی جائے میرا پیار یاد رکھنا
تیرے دم سے ہے سلامت یہ بہار یاد رکھنا
تجھے چھین لے نہ مجھ سے کسی موڑ پر زمانہ
کبھی بھول کر بھی دل میں یہ خیال تم نہ لانا
میرے باغ میں ہے تجھ سے یہ بہار یاد رکھنا
تو جہاں کہیں بھی جائے میرا پیار یاد رکھنا
تیرے دم سے ہے سلامت یہ بہار یاد رکھنا
تیرے بعد کیا کہوں گی دل مبتلا سے اپنے
جو پھروں کبھی وفا سے تو پھروں خدا سے اپنے
میرے پیار کی نشانی یہ سنگھار یاد رکھنا
تو جہاں کہیں بھی جائے میرا پیار یاد رکھنا
تیرے دم سے ہے سلامت یہ بہار یاد رکھنا
شباب کیرانوی
فلم؛ انسان اور آدمی
No comments:
Post a Comment