کوئی حالات کی گردش سے نکالے مجھ کو
مکڑیاں وقت کی پہنا گئیں جالے مجھ کو
جب تِری یادوں کی وادی میں سفر کرتی ہوں
ڈسنے لگتے ہیں اندھیروں میں اجالے مجھ کو
صبر کے شمع تجھے دیکھ کے پگھلی ورنہ
مدتوں تک رہا طوفان سنبھالے مجھ کو
جس طرح چاندنی تاروں کو چھپا لیتی ہے
اس طرح آ کے کوئی مجھ سے چُرا لے مجھ کو
رات بھر میں نے دعا صبح کی مانگی لیکن
دن نے بھی کر دیا سودج کے حوالے مجھ کو
اب بگولے کی طرح پھرتی ہوں صحراؤں میں
ایک حسرت تھی وہ پلکوں میں چھپا لے مجھ کو
میناؔ چٹان پہ لکھی ہوئی تحریر ہوں میں
کوئی سکّے کی طرح اب نہ اچھالے مجھ کو
مینا نقوی
No comments:
Post a Comment