صفحات

Wednesday, 2 November 2022

ہم کو رسوا اپنی نظروں کا تصادم کر گیا

 أفکار پریشاں


ہم کو رسوا اپنی نظروں کا تصادم کر گیا

ترجمانی غم کی اشکوں کا تبسم کر گیا

کشتئِ امید ساحل کے قریب آنے کو تھی

تیرا وہ انکار برپا اک تلاطم کر گیا

اس کی عادت تھی غلط باتوں کو سن لیتا تھا وہ

مجھ کو رسوا میرا اندازِ تکلم کر گیا

دل کے سارے زخم اس کے سامنے پھٹنے کو تھے

ان سبھی زخموں کا پردہ اِک تبسم کر گیا

عشق کو دشتِ غزل میں سجدے جو کرنے پڑے

تیری رہ کی خاک سے ہی میں تیمم کر گیا

مدتوں بعد آ کے اس نے مجھ سے جو پوچھا مزاج

مسکراتی زندگی وہ میری گم صُم کر گیا

شاعری تو ابنِ راہی کو کبھی آئی نہیں

اس کو مشہورِ چمن اس کا ترنم کر گیا


اسامہ ابن راہی

No comments:

Post a Comment