أفکار پریشاں
ہم کو رسوا اپنی نظروں کا تصادم کر گیا
ترجمانی غم کی اشکوں کا تبسم کر گیا
کشتئِ امید ساحل کے قریب آنے کو تھی
تیرا وہ انکار برپا اک تلاطم کر گیا
اس کی عادت تھی غلط باتوں کو سن لیتا تھا وہ
مجھ کو رسوا میرا اندازِ تکلم کر گیا
دل کے سارے زخم اس کے سامنے پھٹنے کو تھے
ان سبھی زخموں کا پردہ اِک تبسم کر گیا
عشق کو دشتِ غزل میں سجدے جو کرنے پڑے
تیری رہ کی خاک سے ہی میں تیمم کر گیا
مدتوں بعد آ کے اس نے مجھ سے جو پوچھا مزاج
مسکراتی زندگی وہ میری گم صُم کر گیا
شاعری تو ابنِ راہی کو کبھی آئی نہیں
اس کو مشہورِ چمن اس کا ترنم کر گیا
اسامہ ابن راہی
No comments:
Post a Comment