دریاؤں سے باغی ہو کر میرے گھر تک آ پہنچا ہے
حاکم تیری فوج کہاں ہے پانی سر تک آ پہنچا ہے
تم موجودہ صف بندی میں ایک ہراول دستہ لاؤ
ہار مقدر بن سکتی ہے ڈر لشکر تک آ پہنچا ہے
کون اداسی پہنے ان کی کون انہیں نزدیک سے دیکھے
آنکھیں اندر دھنس جانے سے دل باہر تک آ پہنچا ہے
سوچ رہا ہوں کون سے دکھ کے دروازے میں دفناؤں میں
خون کا آخری قطرہ ہے جو چشمِ تر تک آ پہنچا ہے
کمرے میں کہرام مچا ہے ارمانوں کی سب لاشوں پر
لگتا ہے اب ہجر تمہارا پھر بستر تک آ پہنچا ہے
دھیرے دھیرے سبز صنوبر ساجد زردی اوڑھ رہے ہیں
چلتے چلتے کچھ شاخوں کا دکھ منظر تک آ پہنچا ہے
لطیف ساجد
No comments:
Post a Comment