صفحات

Sunday, 6 November 2022

غم کے ہاتھوں شکر خدا ہے عشق کا چرچا عام نہیں

 غم کے ہاتھوں شکر خدا ہے عشق کا چرچا عام نہیں 

گلی گلی پتھر پڑتے ہوں ہم ایسے بدنام نہیں 

وہ بھی کیا دن تھے جن روزوں بے فکری میں سوتے تھے 

اب کیسی افتاد پڑی ہے چین نہیں آرام نہیں 

دل کے اجڑتے ہی آنکھوں نے حیف یہ عالم دیکھ لیا 

جلوہ سر رہ کوئی نہیں ہے کوئی بروئے بام نہیں 

جس کے اثر سے بے خود ہو کر اپنے تئیں ہم رسوا ہوں 

موج مے گل کے ہاتھوں میں ایسا کوئی جام نہیں 

دل کا رونا دل کا کھونا لاکھ عذاب الیم سہی 

ہمت ہار کے بیٹھ ہی جائیں ہم ایسے ناکام نہیں


وحید قریشی

No comments:

Post a Comment