صفحات

Sunday, 6 November 2022

دھرتی بھی سینہ زن ہے کہ سچائی چھین لی

 دھرتی بھی سینہ زن ہے کہ سچائی چھین لی

بارش کی جل ترنگ نے تنہائی چھین لی

نابینا بیچتا ہے بصارت کو راہ میں

گونگے نے جب سے نطق پذیرائی چھین لی

ہم لوگ بھوک پیاس کی شدت نہ سہہ سکے

فاقوں نے ہم سے قوت گویائی چھین لی

یہ کس نے چاندنی کو سمیٹا ہے آنکھ میں

یہ کس نے سارے شہر کی بینائی چھین لی

میں گم تھا اپنے آپ میں اندرون خانہ قید

لیکن کسی کی یاد نے گہرائی چھین چھین لی

پانی پہ تیرتا رہا رنگوں کا رقص بھی

آب شفا تو مل گیا زیبائی چھین لی

اب کے مجھے ملا ہے محبت میں ایسا دکھ

چہرے سے جس نے دل کشی رعنائی چھین لی

اترا ہے ایسے آنکھ میں طاہر یہ رتجگا

دلدل کو روند ڈالا گیا کائی چھین لی


طاہر حنفی

No comments:

Post a Comment