صفحات

Wednesday, 9 November 2022

آدم ہے نہ حوا ہے زماں ہے نہ زمیں ہے

 آدم ہے نہ حوا ہے زماں ہے نہ زمیں ہے 

وہ کون ہے جو کُن میں مگر پردہ نشیں ہے 

مانا کہ نہیں ہوں تِرے الطاف کے قابل 

تُو پھر بھی مِرے حال سے غافل تو نہیں ہے 

بندہ ہوں تِرا غیب پہ ایمان ہے میرا 

اوروں کو نہ ہو مجھ کو مگر تیرا یقیں ہے 

شاہوں کے بھی تاجوں کو لگا دیتا ہے ٹھوکر 

یہ بندۂ نا چیز جو اک خاک نشیں ہے 

تھا ہند کی جانب مِرے آقاﷺ کا اشارہ 

خوشبوئے محبت تو ہمیشہ سے یہیں ہے 

مانا کہ مِرا لُٹ گیا سرمایہ خوشی کا 

اک درد کی دولت تو ابھی میرے قریں ہے 

احباب کے برتاؤ کو میں کیسے بھلاؤں 

بے کار تسلی گئی دل پھر بھی حزیں ہے 

آسان نہیں راہِ وفا دیکھ کے جامی

تکلیف کہیں بھوک کہیں پیاس کہیں ہے


رحمان جامی

No comments:

Post a Comment