صفحات

Wednesday, 9 November 2022

ہوا کے وار پہ اب وار کرنے والا ہے

 ہوا کے وار پہ اب وار کرنے والا ہے

چراغ بجھنے سے انکار کرنے والا ہے

خدا کرے کہ تِرا عزم برقرار رہے

زمانہ راہ میں دیوار کرنے والا ہے

وہی دکھائے گا تجھ کو تمام داغ تِرے

جسے تُو آئینہ بردار کرنے والا ہے

یہ وار تو کبھی خالی نہیں گیا میرا

کوئی تو اس کو خبردار کرنے والا ہے

اسی نے رنگ بھرے ہیں تمام پھولوں میں

وہی شجر کو ثمر دار کرنے والا ہے

زمین بیچ کے خوش ہو رہے ہو تم جس کو

وہ سارے گاؤں کو بازار کرنے والا ہے


وکاس شرما راز

No comments:

Post a Comment