صفحات

Wednesday, 9 November 2022

ہم نے محبت میں شعلوں کو بھی جلتے دیکھا

ہم نے محبت میں شعلوں کو بھی جلتے دیکھا

برف سے دل کو ہر شام سُلگتے دیکھا

وصل کے خواب کبھی ہم نے بھی دیکھے لیکن

چاند کی طرح سے خُود کو ہی ٹہلتے دیکھا

چڑھتا جاتا ہے سرِ شام ہی یادوں کا سرور

ہم نے ہر گام پہ قدموں کو بہکتے دیکھا

گیسُوئے یار پہ ہر طور فقط سجنے کو

چند پُھولوں کو ہم نے بھی ترستے دیکھا

جا کر محفل میں غیروں کی اکثر ہم نے

اجنبی دُھن پہ اس دل کو تِھرکتے دیکھا

محوِ حیراں اشکوں کی روانی پہ سعید

بِنا بادل کے ہی بارش کو برستے دیکھا


سعید ہاشمی

No comments:

Post a Comment