ہم نے محبت میں شعلوں کو بھی جلتے دیکھا
برف سے دل کو ہر شام سُلگتے دیکھا
وصل کے خواب کبھی ہم نے بھی دیکھے لیکن
چاند کی طرح سے خُود کو ہی ٹہلتے دیکھا
چڑھتا جاتا ہے سرِ شام ہی یادوں کا سرور
ہم نے ہر گام پہ قدموں کو بہکتے دیکھا
گیسُوئے یار پہ ہر طور فقط سجنے کو
چند پُھولوں کو ہم نے بھی ترستے دیکھا
جا کر محفل میں غیروں کی اکثر ہم نے
اجنبی دُھن پہ اس دل کو تِھرکتے دیکھا
محوِ حیراں اشکوں کی روانی پہ سعید
بِنا بادل کے ہی بارش کو برستے دیکھا
سعید ہاشمی
No comments:
Post a Comment