Wednesday, 9 November 2022

اس کے چہرے پہ تبسم کی ضیا آئے گی

اس کے چہرے پہ تبسم کی ضیا آئے گی

وہ مجھے یاد کرے گا تو حیا آئے گی

اوڑھ کر جسم پہ یادوں کی ردا آئے گی

جب بھی ماضی کے جھروکوں سے ہوا آئے گی

کون مظلوم کی فریاد سنے گا نا حق

لوٹ کر دشت میں خود اپنی صدا آئے گی

کس قدر بکھرا ہوا ہوں میں بچھڑ کے تجھ سے

یاد اب کس کی مجھے تیرے سوا آئے گی

بند کمروں میں کسی کو بھی یہ احساس نہ تھا

در کھلیں گے تو بہت تیز ہوا آئے گی

غیر مانوس فضاؤں میں تو خوش ہوں لیکن

جانے کس موڑ پہ مانوس فضا آئے گی

نام تو اپنا گنہگاروں کی فہرست میں لکھ

تیرے حصے میں بھی رنگین قبا آئے گی

زندگی سب سے جدا گزرے گی اپنی انجم

موت بھی آئی تو وہ سب سے جدا آئے گی


آنند سروپ انجم

No comments:

Post a Comment