صفحات

Tuesday, 1 November 2022

میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا

میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا

ساقی مِرے مزاج کا موسم نہیں ملا

مجھ میں بسی ہوئی تھی کسی اور کی مہک

دل بجھ گیا کہ رات وہ برہم نہیں ملا

بس اپنے سامنے ذرا آنکھیں جھکی رہیں

ورنہ مِری انا میں کہیں خم نہیں ملا

اس سے طرح طرح کی شکایت رہی مگر

میری طرف سے رنج اسے کم نہیں ملا

ایک ایک کر کے لوگ بچھڑتے چلے گئے

یہ کیا ہوا کہ وقفۂ ماتم نہیں ملا


ساقی فاروقی

No comments:

Post a Comment