صفحات

Tuesday, 1 November 2022

جب دل میں ذرا بھی آس نہ ہو اظہار تمنا کون کرے

 جب دل میں ذرا بھی آس نہ ہو اظہارِ تمنا کون کرے

ارمان کیے دل ہی میں فنا ارمان کو رسوا کون کرے

خالی ہے مِرا ساغر تو رہے ساقی کو اشارہ کون کرے

خودداریٔ سائل بھی تو ہے کچھ ہر بار تقاضا کون کرے

جب اپنا دل خود لے ڈوبے اوروں پہ سہارہ کون کرے

کشتی پہ بھروسا جب نہ رہا تنکوں پہ بھروسا کون کرے

آدابِ محبت میں بھی عجب دو دل ملنے کو راضی ہیں

لیکن یہ تکلف حائل ہے پہلا وہ اشارہ کون کرے

دل تیری جفا سے ٹوٹ چکا اب چشم کرم آئی بھی تو کیا

پھر لے کے اسی ٹوٹے دل کو امید دوبارہ کون کرے

جب دل تھا شگفتہ گل کی طرح ٹہنی کانٹا سی چبھتی تھی

اب ایک فسردہ دل لے کر گلشن کی تمنا کون کرے

بسنے دو نشیمن کو اپنے پھر ہم بھی کریں گے سیر چمن

جب تک کہ نشیمن اجڑا ہے پھولوں کا نظارہ کون کرے

اک درد ہے اپنے دل میں بھی ہم چپ ہیں دنیا ناواقف

اوروں کی طرح دہرا دہرا کر اس کو فسانا کون کرے

کشتی موجوں میں ڈالی ہے مرنا ہے یہیں جینا ہے یہیں

اب طوفانوں سے گھبرا کر ساحل کا ارادہ کون کرے

ملا! کا گلا تک بیٹھ گیا, بہری دنیا نے کچھ نہ سنا

جب سننے والا ہو ایسا رہ رہ کے پکارا کون کرے


آنند نرائن ملا

No comments:

Post a Comment