کسی فرائیڈ،، نہ کارلائل سے متصل ہے
مِری اداسی مِرے مسائل سے متصل ہے
پرائی بیٹی کی خودکشی پر فسردہ لوگو
یہاں پہ لڑکی کا بَر وسائل سے متصل ہے
یہ دھڑکنوں کا گراف اوپر تلے رہے گا
مریض کا دل کسی کی پائل سے متصل ہے
کبھی جب اٹھتی تھی، وقت سوئیاں ٹٹولتا تھا
ابھی جو چشمِ گریز ڈائل سے متصل ہے
دلوں کے مابین یہ عداوت نئی نہیں ہے
مِرا اوائل تِرے اوائل سے متصل ہے
یہ ایسا جھگڑا ہے وصل ہونے پہ ختم ہو گا
دلوں کا قضیہ کہاں دلائل سے متصل ہے
یہاں پہ بے نطق تشنہ کامی سے فوت ہوں گے
یہاں کرم بھی صدائے سائل سے متصل ہے
آزاد حسین آزاد
No comments:
Post a Comment