صفحات

Saturday, 5 November 2022

محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری

 محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مِری

سب ساتھ تھے کسی سے رفاقت نہ تھی مری

حق کس سے مانگتا کہ مکینوں کے ساتھ ساتھ

دیوار و بام و در کو ضرورت نہ تھی مری

سچ بول کے بھی دیکھ لیا ان کے سامنے

لیکن انہیں پسند صداقت نہ تھی مری

میں جن پہ مر مٹا تھا وہ کاغذ کے پھول تھے

رسمی مکالمے تھے،۔ محبت نہ تھی مری

جو دوسروں کے دکھ تھے وہی میرے دکھ بھی تھے

کچھ ایسی مختلف بھی حکایت نہ تھی مری

بس کچھ اصول تھے جو بہ ہر حال تھے عزیز

جانم کسی سے ورنہ عداوت نہ تھی مری


اعتبار ساجد

No comments:

Post a Comment