صفحات

Wednesday, 2 November 2022

وہ زندگی جو سہہ نہ سکے زندگی کا جبر

 وہ زندگی جو سہہ نہ سکے زندگی کا جبر

اس ناتواں پہ کیوں یہ گراں آگہی کا جبر

دل وہ بھی دیکھتا ہے جو آنکھیں نہ دیکھتیں

تاریکیوں سے اور سوا روشنی کا جبر

تسکین ڈھونڈنے کو بخارات ہو چلا

پانی بھی سہہ رہا ہے یہاں تشنگی کا جبر

اپنے وجود پر بھی مجھے اختیار کیا

آنکھوں پہ غم کا جبر لبوں پر خوشی کا جبر

شاید شکست و ریخت کا اک سلسلہ ہوں میں

اثبات کا ہے مجھ پہ کبھی ہے نفی کا جبر

تعبیر دیکھتی رہی بس ایک خواب کی

تھوڑا سا لطفِ جہل بہت آگہی کا جبر

یہ پوچھتے تو ہوں گے خدا سے ملائکہ

کس طرح آدمی نے سہا زندگی کا جبر

اٹھنا ازل کی صبح تو سونا ابد کی شام

وہ تھا سفر کا جبر تو یہ ماندگی کا جبر

پنہاں بہت میں تنگ ہوں اندر کے شور سے

فطرت کا مجھ پہ جبر ہے یہ شاعری کا جبر


سکینہ پنہاں

No comments:

Post a Comment