وہ زندگی جو سہہ نہ سکے زندگی کا جبر
اس ناتواں پہ کیوں یہ گراں آگہی کا جبر
دل وہ بھی دیکھتا ہے جو آنکھیں نہ دیکھتیں
تاریکیوں سے اور سوا روشنی کا جبر
تسکین ڈھونڈنے کو بخارات ہو چلا
پانی بھی سہہ رہا ہے یہاں تشنگی کا جبر
اپنے وجود پر بھی مجھے اختیار کیا
آنکھوں پہ غم کا جبر لبوں پر خوشی کا جبر
شاید شکست و ریخت کا اک سلسلہ ہوں میں
اثبات کا ہے مجھ پہ کبھی ہے نفی کا جبر
تعبیر دیکھتی رہی بس ایک خواب کی
تھوڑا سا لطفِ جہل بہت آگہی کا جبر
یہ پوچھتے تو ہوں گے خدا سے ملائکہ
کس طرح آدمی نے سہا زندگی کا جبر
اٹھنا ازل کی صبح تو سونا ابد کی شام
وہ تھا سفر کا جبر تو یہ ماندگی کا جبر
پنہاں بہت میں تنگ ہوں اندر کے شور سے
فطرت کا مجھ پہ جبر ہے یہ شاعری کا جبر
سکینہ پنہاں
No comments:
Post a Comment