صفحات

Friday, 2 December 2022

میں اک دیوتائے انا نرگسیت کا مارا ہوا

 میں اک دیوتائے انا

نرگسیت کا مارا ہوا

اور ازل سے تکبر میں ڈوبا ہوا

کافی خود سر ہوں

ضدی ہوں مغرور ہوں

میرے چاروں طرف میری اندھی انا کی وہ دیوار ہے

جس میں آنے کی اور مجھ سے ملنے کی

گھلنے کی کوئی اجازت کسی کو نہیں ہے

تمہیں بھی نہیں ہے

اسے بھی نہیں ہے

مجھے بھی نہیں ہے

میں اپنی انا کی دیواروں میں تم سے الگ ہو رہوں

مجھ پہ سجتا بھی ہے یہ

میں شاعر ہوں جو کہ فعولن فعولن سے بحر رمل تک

ہر اک نغمگی کا مکمل خدا ہوں

میں لفظوں کا آقا

تخیل کا خالق

میں سارے زمانے سے یکسر جدا ہوں

مجھے زیب دیتا ہے 

میں اپنی دیوار میں اس طرح سے مقید رہوں

یوں ہی سید رہوں

مجھ پہ سجتا ہے یہ

پر جو کل شب ترے شبنمی سے تبسم میں لپٹی ہوئی

اک نظر بے نیازی سے مجھ پر پڑی

تیری پہلی نظر سے مری جان جاں

میری دیوار میں اک گڑھا پر پڑ گیا

اور یہ ہی نہیں مجھ پہ وہ ہی نظر

جب دوبارہ دوبارہ دوبارہ پڑی

میری دیوار میں زلزلے آ گئے

اور رخنے شگافوں میں ڈھلنے لگے

میرے اندر تلاطم وہ آتش فشاں

وہ بگولے وہ طوفاں وہ محشر بپا تھا

کہ میں وہ کہ جس کے تحمل کی حکمت کی

فہم و لطافت کی تمثیل شاید کہیں بھی نہیں تھی

سلگنے لگا

اپنی حدت سے خود ہی پگھلنے لگا

تجھ سے کہنا تھا یہ کہ مری جان جاں

ہر ستارے کی اپنی کشش ہوگی لیکن

خلاؤں میں مردہ ستاروں کی قسمت

وہ ہاکنگ کی تھیوری کے کالے گڑھے

وہ وہی وہ کہ جن میں ہے اتنی کشش کہ مکاں تو مکاں

وہ زماں کو بھی اپنے لپیٹے میں لے لیں

وہ ہاکنگ کی تھیوری کے کالے گڑھوں کی گریوٹی بھی

تیری انکھوں کی گہری کشش کے مقابل میں کچھ بھی نہیں

اور یہ تو فقط ایک دیوار تھی

اس کو گرنا ہی تھا

تیری نظروں سے ہاری ہے بکھری پڑی ہے

کہ دیوار کا ریزہ ریزہ تری اک نظر سے مری جان

اجڑا پڑا ہے

میں جو دیوتائے انا نرگسیت کا مارا ہوا 

وہ جو خود سر تھا

ضدی تھا مغرور تھا

جو فعولن فعولن سے بحر رمل تک 

ہر اک نغمگی کا مکمل خدا تھا

تری اک نظر سے اناؤں کے عرش معلیٰ سے 

سیدھا ترے پاؤں میں آ کے

بکھرا پڑا ہے


صہیب مغیرہ صدیقی

No comments:

Post a Comment