صفحات

Friday, 2 December 2022

لاکھ خاموش رہوں پھر بھی یہ غم بولتا ہے

 لاکھ خاموش رہوں پھر بھی یہ غم بولتا ہے

دل فسُردہ ہو تو خود آنکھ کا نم بولتا ہے

اس کے لہجے سے جھلکتی ہے کہانی اس کی

اس کے چہرے پہ لکھا جور و ستم بولتا ہے

وہ تو حیرت سے نکلنے نہیں پاتا پل بھر

ساتھ چلتا ہے تو ہر ایک قدم بولتا ہے

بات کرتا ہے کسی تلخ لب و لہجے میں

جب رگ و پے میں کسی یاد کا سم بولتا ہے

شعر خوں بن کے رگِ جاں میں اتر جاتے ہیں

درد لفظوں کا سرِ لوح و قلم بولتا ہے

میری گُفتار طرازی سے وہ خائف ہے شفیق

جس کو شکوہ تھا کبھی مجھ سے کہ کم بولتا ہے


شفیق احمد

No comments:

Post a Comment