صفحات

Thursday, 8 December 2022

گریۂ شب کی شہادت کے لیے جاگتے ہیں

 گریۂ شب کی شہادت کے لیے جاگتے ہیں

یہ ستارے کوئی ساعت کے لیے جاگتے ہیں

خوف ایسا کہ ہم بند مکانوں میں بھی

سونے والوں کی حفاظت کے لیے جاگتے ہیں

عمر گزری ہے تِری سجدہ وری میں لیکن

آج ہم اپنی عبادت کے لیے جاگتے ہیں

پہلے ہم کرتے ہیں تصویر میں عریاں تِرا خواب

اور پھر اس کی حفاظت کے لیے جاگتے ہیں

لفظ در لفظ پڑھا کرتے ہیں تیری صورت

رات بھر تیری تلاوت کے لیے جاگتے ہیں


اظہر نقوی

No comments:

Post a Comment