صفحات

Thursday, 8 December 2022

وقت کو گزرنا ہے اور گزر ہی جائے گا

 کیا یہ ہو بھی سکتا ہے


وقت کو گزرنا ہے، اور گزر ہی جائے گا

اس نے کب سنی کس کی، میری کب وہ مانے گا

چھین بھی تو سکتا ہے، زندگی کے سارے رنگ

تیز دھار میں اس کی، بہہ بھی سکتی ہے امید

ہر متاعِ 💓دل میری، ہر اثاثہ، سرمایہ

خواب میں جو رقصاں ہے، آنکھ کی خوشی ساری

ہاتھ میں جو تھامی ہے، صبر کی وہ کنجی بھی

سب وہی چرا لے گا، میں رہوں گی بس تنہا

اِس سفر میں تنہائی، ساتھ دے گی اب کتنا

بس قَلم، کتابوں میں مجھ کو محو رہنا ہے

دشت کی مسافت کے راستوں میں کھونا ہے

یہ بھی خدشہ ہے میرا، ایسا ڈر بھی لگتا ہے

یہ بھی ہو تو سکتا ہے، وہ بھی ہو تو سکتا ہے

ہونا ہو تو ہونے کو، کچھ بھی ہو ہی سکتا ہے

واقعہ جو ہونا ہے وہ تو ہو کے رہنا ہے

ایک شمع جلتے ہی، روشنی تو ہوتی ہے

صبر، زیست کو میٹھا پھل بھی تو بناتا ہے

کینوس پہ خوشیوں کے، رنگ چڑھ بھی سکتے ہیں

وقت ہم قدم ہو کر، ساتھ چل بھی سکتا ہے

مجھ کو ایسا لگتا ہے کیا یہ ہو بھی سکتا ہے 


سبیلہ انعام صدیقی

No comments:

Post a Comment