صفحات

Thursday, 8 December 2022

حشر ہوتا ہے یہی خام تمناؤں کا

 حشر ہوتا ہے یہی خام تمناؤں کا 

جلد سیلاب اُتر جاتا ہے دریاؤں کا

قہر برسا ہے کہ برسات میں برسا بادل 

رابطہ ٹُوٹ گیا شہر سے ہر گاؤں کا 

ہم پہ ہی ظلم ہمارا ہی دیا کھاتے ہیں 

کوئی چارہ تو کرو آج کے آقاؤں کا

زندگی! تُو بھی بڑی گھور منافق نکلی 

دُھوپ میں رکھا سدا، وعدہ کیا چھاؤں کا 

ساری دنیا ہی نظر آتی ہے مدفن مجھ کو  

جب نکلتا ہے جنازہ مِری آشاؤں کا

ہم نصیبوں کو مشقت سے بدل دیتے ہیں 

منہ نہیں تکتے کبھی ہاتھ کی ریکھاؤں  کا

ساز! بس چند قدم پر ہے گُلستانِ اُمید 

ہم سفر کاٹ چکے یاس کے صحراؤں کا


ساز دہلوی

No comments:

Post a Comment