صفحات

Thursday, 8 December 2022

تری آنکھوں نے آنکھوں کا سسکنا بھی نہیں دیکھا

 تِری آنکھوں نے آنکھوں کا سسکنا بھی نہیں دیکھا

محبت بھی نہیں دیکھی، تڑپنا بھی نہیں دیکھا

نہیں دیکھا ابھی تم نے مِری تنہائی کا منظر

کہ اپنے آپ سے میرا الجھنا بھی نہیں دیکھا

ابھی تم نے تمہارے بِن مِری حالت نہیں دیکھی

ابھی تم نے مِرا غم میں بِلکنا بھی نہیں دیکھا

ابھی تم نے دعاؤں میں مِرے آنسو نہیں دیکھے

خدا کے سامنے مِرا سسکنا بھی نہیں دیکھا

تِری جانب سے الفت کا کوئی پیغام کیا آتا

نہیں دیکھی حیا میری، سمٹنا بھی نہیں دیکھا

ابھی تم نے نہیں دیکھا کوئی منظر جدائی کا

ابھی پتوں کا شاخوں سے بکھرنا بھی نہیں دیکھا

چلو باندھیں سفر اپنا ستاروں سے کہیں آگے

کہ ہم تم مل کے وہ دیکھیں جو سپنا بھی نہیں دیکھا

فقط اس آئینے میں تم نے دیکھا ہے ابھی خود کو

کنول! پانی کا آنکھوں میں ابھرنا بھی نہیں دیکھا


کنول ملک

No comments:

Post a Comment