صفحات

Tuesday, 6 December 2022

سائے کے حق میں کچھ نہیں میرے بیان میں

 سائے کے حق میں کچھ نہیں میرے بیان میں

جو آپ چھپتا پھرتا ہے ہر سائبان میں

یہ چھوٹے چھوٹے شوق بھی اس کو روا نہیں

جس کو بڑا بنایا گیا خاندان میں

مجھ کو ہے آدمی سے توقع خلوص کی

سونا تلاش کرتا ہوں مٹی کی کان میں

قد سے نہیں بنائی ہے پہچان جست سے

یہ فرق ہے ہماری تمہاری اٹھان میں

مٹی میں ملنے والے ہیں کل اس کے چیتھڑے

اڑتی رہے پتنگ بھلے آسمان میں

چپ رہ سکے جو آدمی چپ کے مقام پر

یہ خامشی ہو زمرۂ فوق البیان میں

اب تک ہمیں خبر ہی نہیں تھی کمال ہے

نکلے ہیں ہم بھی آپ کے دل دادگان میں

فطرت سے کچے پکے تعلق کی بات کیا

مٹی کی باس تک نہیں پکے مکان میں


رحمان حفیظ

No comments:

Post a Comment