صفحات

Tuesday, 6 December 2022

اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے

 اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے


فقط پہلا نہیں یہ تو مسلسل تیسرا ہو گا 

اسے کہنا کہ اپنے حافظے پر زور ڈالے کچھ

وہ بھیگی، اوس میں ڈوبی بہت نم سی کوئی شب تھی 

کہ جب میں اس کی اکلوتی سی اک مِس کال پر 

بائیک پہ بیٹھا ہائی وے پر ایک ہوٹل جا کے بیٹھا تھا 

میں تنہا اور سنگل سوٹ پہنے 

ایک تختے پر ٹھٹھرتا بیٹھ کر راہوں کو تکتا تھا

اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے 

فقط پہلا نہیں یہ تو مسلسل تیسرا ہو گا 

مہینے بھر کے وعدے پر جو نوٹ اس نے گھسیٹے تھے 

مِری نازک سی تنخواہ سے 

وہ نوٹ اب یاد آتے ہیں 

میں جب بھی بات کرتا ہوں 

مجھے ٹوپی کراتا ہے تو سردی اور لگتی ہے

اسے کہنا یہ چنگی گَل نہیں ایسے نہیں کرتے 

کہ اس نے جب وہ خوشبودار، کڑک سے نوٹ گاڑھے تھے 

تو ڈالر سو کا تھا شاید

 ٹماثر سو روپے میں تین کے جی آیا کرتے تھے

اسے کہنا اگر دو چار دسمبر اور گزرے تو اجازت ہے 

مِرے ان تازہ نوٹوں کو جلا کر آگ تاپے پھر

معافی میں نہیں دوں گا

دسمبر لُوٹنے والے

میں جب بھی شعر پڑھتا ہوں کوئی اچھا دسمبر پر تو 

جانے کیوں مجھے تیری ہی بُوتھی یاد آتی ہے 

دسمبر لُوٹنے والے! مجھے میری رقم دے دے 

نہیں دینی تو نہ دے میں بھی معافی تو نہیں دوں گا

دسمبر لوٹ آئے گا

میں پھر اِک نظم کہہ دوں گا


عابی مکھنوی

No comments:

Post a Comment