صفحات

Monday, 5 December 2022

مجھے دیوار میں پتھر کی طرح رکھا گیا

مجھے دیوار میں پتھر کی طرح رکھا گیا

اور تجھے سِیپ میں گوہر کی طرح رکھا گیا

حکمران وہ رہا سالار کی صورت میرا

اور مِری سوچ کو لشکر کی طرح رکھا گیا

پارسا بھی رِند بھی کرنے لگے میرا طواف

جب بھی میخانے میں ساغر کی طرح طرح رکھا گیا

خُود سے بچھڑے ہوئے گُزری ہیں کئی صدیاں مجھے

میں کئی صدیاں کُھلے در کی طرح رکھا گیا

پھر بلندی کو مِری چُھو نہ سکا کوئی بھی ہاتھ

مجھ کو اس تاج میں ایک پل کی طرح رکھا گیا

دربدر میں ہُوا تاوان کی صُورت پہلے

کوٹ کی جیب میں پھر زر کی طرح رکھا گیا

کُرۂ ارض نے تسلیم کیا مجھ کو مراد

میں سمندر تھا سمندر کی طرح رکھا گیا


رحمان امجد مراد

No comments:

Post a Comment