گہرے بندھن
اپنے خوابوں کی زمیں جھوم رہی ہے دیکھو
ہم قدم گرم سفر دیکھ کے ہم کو تم کو
کتنی آوازیں بلاتی ہیں
چلے آؤ یہاں
اس اندھیرے کے سفر میں جو ہے احساس زیاں
لب پہ اقرار وفا، روح میں انکار نہاں
آؤ خوابوں کی زمیں تک تو چلو پھر دیکھو
بے سبب دل میں یہ وہموں کے ابلتے طوفاں
سر اٹھائیں گے نہ وجہ تصادم ہوں گے
یہ جو ہم تم ہیں، وہاں ایسے نہ ہم تم ہوں گے
شہاب جعفری
No comments:
Post a Comment