صفحات

Monday, 5 December 2022

مری طرف تری اٹھتی نگاہ تھوڑی ہے

 مِری طرف تِری اٹھتی نگاہ تھوڑی ہے

تِرے گریز میں اب اشتباہ تھوڑی ہے

چراغ جلتے رہیں گے ہوا بغور یہ سن

ہنر پہ تجھ کو ابھی دستگاہ تھوڑی ہے

ہے ایک عشق سے آمیز راستے کا سفر

ذرا سی دور بہ طرز نباہ تھوڑی ہے

جزا سزا سے کہیں ماورا ہے میرا عمل

یہ کارِ عشق، مسلسل گناہ تھوڑی ہے

کوئی مکین نہیں کر سکے سکونتِ خاص

ہمارا دل ابھی ایسا تباہ تھوڑی ہے

ہوائیں اور شجر اور طائران خیال

اک آسمان ہمارا گواہ تھوڑی ہے


محسن شکیل

No comments:

Post a Comment