صفحات

Tuesday, 6 December 2022

سنو لوگو ترقی کا فسانہ آگہی کا گیت

 قصہ مہسا امینی کا


سنو لوگو! ترقی کا فسانہ، آگہی کا گیت

بدلتے موسموں کے ساتھ بدلی روشنی کا گیت

اساطیری نظاموں سے بنا اک پردگی کا گیت

کسی ما بعد جدت سے بدلتا، بہتری کا گیت


یہ قصہ ہے سنہری شال کا، عزت کا، عصمت کا

بیہمانہ رویہ سے خود اپنی ہی، حفاظت کا

کسی زہرہ کی چادر کا، کسی مریم کی حرمت کا

دوپٹے اور چادر کی مروج اس طریقت کا


یہ ساری چادریں لوگوں سبھی کا مان تھیں، سچ تھیں

یہ باپردہ رواجوں کا کھرا وجدان تھیں, سچ تھیں

جو پرکھوں سے کیا تھا یہ وہی پیمان تھیں، سچ تھیں

کسی زینب کی گٹھڑی کا، یہ کل سامان تھیں، سچ تھیں


پھر ان کو اہلِ جبہ اہلِ ممبر نے صدا دے دی

اور ان کے ہاتھ میں اک شمعِ بد اور شعلہ پا دے دی

انہیں بلوا لیا جابر نے اور خوئے دغا دے دی

مؤنث صنف سے افضل ہو تم کہہ کر، انا دے دی


سو اب ان چادروں کے خوف میں سارے قبائل ہیں

ہزیمت اور شدت ان کے دانستہ خصائل ہیں

یہ امن و آشتی کے راستوں کے بیچ حائل ہیں

یہ دوپٹے یہ دوشالے نہیں ہیں بس مسائل ہیں


یہ ظلمت خانۂ ملاح کے در کی بھکارن ہیں

یہ اس تہذیب پر دھبہ ہیں اب اک عام الجھن ہیں

یہ تھپڑ تانتے مردوں کی ساتھی ہیں، معاون ہیں

یہ غیرت نام پہ بیٹی کو مارو کی پجارن ہیں


انہی کے سائے میں آزاد سوچیں جلتی آئی ہیں

انہیں آزاد اور محفوظ مائیں کھلتی آئی ہیں

مروت کے اصولوں پہ یہ کالک ملتی آئی ہیں

یہ عرصے سے کسی دستِ ستم میں پلتی آئی ہیں


سو اب ہم ان کو بھولیں گے، نیا رستہ نکالیں گے

معیارِ عزت و غیرت ذرا بہتر بنالیں گے

ہم ان کو گھاس سمجھیں گے انہیں لکڑی میں ڈھالیں گے

پھر ان کی آگ سے آتش کدے چولہے جلا لیں گے


کہ وہ چادر جو بیٹی کا حقِ تعلیم کھا جائے

جو سرکے تو کسی سر پر پیامِ موت آجائے

وہ والد کی محبت، بھائی کی آنکھوں پہ چھا جائے

جو قانونِ ریاست کی ہر اک بنیاد ڈھا جائے


اب اس چادر سے کہنا ہے کہ تم بس اک تماشا ہو

کہ تم شرم و حیا کے نام پر اک عام سرقہ ہو

ہماری بیویوں کے بیٹیوں کے سر کا صدقہ ہو

ہمارے عورتوں کے سر سلامت! تم بھلا کیا ہو


ماہ نور رانا

No comments:

Post a Comment