زلفیں وہ نرم رات سی بکھری ہیں ناز سے
اور رات میں ستارے نگہ دلنواز کے
تاروں کے آس پاس ہیں چندا سے گال دو
چندا کے درمیان وہ نقطے سے خال دو
اور گال کے کنارے گلابی گلاب سے
دو ہونٹ تو نہیں یہ ہیں پیالے شراب کے
اور ہونٹ یوں پیوستہ، زمین و فلک ملے
ہونٹوں کے بیچ گویا ہیں چمپا کے گل کھلے
مسکان سے چمن میں بھی پھولوں کے رس پڑے
چھو لے اگر یہ ہونٹ تو شبنم بھی ہنس پڑے
تعریف کیا بیان ہو قامت کی چال کی
موسم بہار چلتی ہوا وہ شمال کی
کیسی کلائی اس کی؟ چنبیلی کی ڈال سی
کیسی تپش وہ سانس کی؟ سردی میں شال سی
پیکر کا رنگ ایسا کہ ابٹن میں دودھ ہے
اور اس کی ہر طرف میں مہکتا سا عود ہے
نازک کمر کے خم سے ہواؤں میں بل پڑے
پاؤں کے چومنے کو تو پتھر بھی چل پڑے
سینے کی دھڑکنیں ہیں یا نغمے فضا میں ہیں
صندل مثال مہکی وہ سانسیں ہوا میں ہیں
پلکوں کے زیر وبم سے نظاروں میں نور ہے
دیکھا کریں ہیں جتنا تو بڑھتا فتور ہے
ہر پرت کھل چکی ہو وہ پیکر جمال کی
تجسیم ہو رہی ہے یوں صورت خیال کی
عمران محمود
No comments:
Post a Comment