صفحات

Wednesday, 7 December 2022

زلفیں وہ نرم رات سی بکھری ہیں ناز سے

 زلفیں وہ نرم رات سی بکھری ہیں ناز سے

اور رات میں ستارے نگہ دلنواز کے

تاروں کے آس پاس ہیں چندا سے گال دو

چندا کے درمیان وہ نقطے سے خال دو

اور گال کے کنارے گلابی گلاب سے

دو ہونٹ تو نہیں یہ ہیں پیالے شراب کے

اور ہونٹ یوں پیوستہ، زمین و فلک ملے

ہونٹوں کے بیچ گویا ہیں چمپا کے گل کھلے

مسکان سے چمن میں بھی پھولوں کے رس پڑے

چھو لے اگر یہ ہونٹ تو شبنم بھی ہنس پڑے

تعریف کیا بیان ہو قامت کی چال کی

موسم بہار چلتی ہوا وہ شمال کی

کیسی کلائی اس کی؟ چنبیلی کی ڈال سی

کیسی تپش وہ سانس کی؟ سردی میں شال سی

پیکر کا رنگ ایسا کہ ابٹن میں دودھ ہے

اور اس کی ہر طرف میں مہکتا سا عود ہے

نازک کمر کے خم سے ہواؤں میں بل پڑے

پاؤں کے چومنے کو تو پتھر بھی چل پڑے

سینے کی دھڑکنیں ہیں یا نغمے فضا میں ہیں

صندل مثال مہکی وہ سانسیں ہوا میں ہیں

پلکوں کے زیر وبم سے نظاروں میں نور ہے

دیکھا کریں ہیں جتنا تو بڑھتا فتور ہے

ہر پرت کھل چکی ہو وہ پیکر جمال کی

تجسیم ہو رہی ہے یوں صورت خیال کی


عمران محمود 

No comments:

Post a Comment