گر دوستی میں آج بھی اپنا مقام ہے
دشمن کی صف میں بھی ہمیں شہرت تمام ہے
یہ اسلحے کی تھاپ کسی اور کو سنا
لشکر کشی تو میرے قبیلے میں عام ہے
خیبر ہو کربلا ہو یا ملتان کا قلعہ
ان سب پہ آج بھی میرے آباء کا نام ہے
ہو جس کو بھی غرور رگ دشمن پہ وار کا
چپکے سے جاں لٹانا بھی اس کا ہی کام ہے
تلوار اور قلم کا حسیں امتزاج ہے
شہباز لامکاں کا یہ ادنیٰ غلام ہے
کاشف سلطان
No comments:
Post a Comment