صفحات

Sunday, 4 December 2022

تم بات کی جو پوچھو تو کیا بات رہی ہے

تم بات کی جو پوچھو تو کیا بات رہی ہے

کبھی ان سے ہماری بھی ملاقات رہی ہے

لازم نہیں ساون ہی میں ہوتی ہے یہ برکھا

دل جن کے دکھی ہوں وہاں برسات رہی ہے

مل پائے نہ ہم جس سے بچھڑے ہیں اسی سے

کیا کیا یہاں مجبورئ حالات رہی ہے

نہیں‌ آتا یقیں تجھ کو مگر ہے یہ حقیقت

ہر ذات سے بر تر تو تِری ذات رہی ہے

تم پر جو کبھی آئے تو شاید نہ بسر ہو

مجھ پر تو قیامت سی ہر اک رات رہی ہے

ہے جیت پوشیدہ بے نیازی ہی میں‌عامر

دنیا کی طلب جن کو انہیں مات رہی ہے


طفیل عامر

No comments:

Post a Comment