تم بات کی جو پوچھو تو کیا بات رہی ہے
کبھی ان سے ہماری بھی ملاقات رہی ہے
لازم نہیں ساون ہی میں ہوتی ہے یہ برکھا
دل جن کے دکھی ہوں وہاں برسات رہی ہے
مل پائے نہ ہم جس سے بچھڑے ہیں اسی سے
کیا کیا یہاں مجبورئ حالات رہی ہے
نہیں آتا یقیں تجھ کو مگر ہے یہ حقیقت
ہر ذات سے بر تر تو تِری ذات رہی ہے
تم پر جو کبھی آئے تو شاید نہ بسر ہو
مجھ پر تو قیامت سی ہر اک رات رہی ہے
ہے جیت پوشیدہ بے نیازی ہی میںعامر
دنیا کی طلب جن کو انہیں مات رہی ہے
طفیل عامر
No comments:
Post a Comment