صفحات

Tuesday, 6 December 2022

گر دل میں تجھے ایسے سمایا نہیں ہوتا

 گر، دل میں تجھے ایسے سمایا نہیں ہوتا

یوں تجھ سے بچھڑ جانے کا دھڑکا نہیں ہوتا

تجھ جیسا کوئی دوست ہمارا نہیں ہوتا

آئے کاش! تجھے ہم نے پکارا نہیں ہوتا

ہم ہجر کی راتوں میں نہ اس طرح تڑپتے

احسان جو ہم پر یہ تمہارا نہیں ہوتا

جب دور ہوئے تجھ سے تو بھرنے لگا خود ہی

ورنہ تو کبھی زخم یہ اچھا نہیں ہوتا

نظروں سے گراتا تو جگہ پا لیتے کوئی

یوں عضوئے معطل کا سا، کاٹا نہیں ہوتا

اس ہجر کی لذت سے کہاں آشنا ہوتے

الفت کا مزہ ہم نے جو چکھا نہیں ہوتا

ائے کاش! کہ ہم کرتے نہ اظہارِ محبت

وہ راز جو پردے میں تھا، افشا نہیں ہوتا

پتھر کا بنا کر تو مِرے پاس نہ آیا

اے کاش کہ مڑ کر تجھے دیکھا نہیں ہوتا

ہم تیرے تغافل پہ یوں آزردہ نہ رہتے

تُو نے جو کبھی پیار سے دیکھا نہیں ہوتا

طاقت کی ہوس ہے جو دلوں میں یہ نہ ہوتی

انسان کا خوں آج یوں سستا نہیں ہوتا

ڈھاتا ہے وہ ہر روز یہاں ایک قیامت

صد حیف، اسے دل میں بسایا نہیں ہوتا

کھاتا ہے جو ٹھوکر وہی آ جاتا ہے واپس

اب عشق میں لمبا کوئی رستہ نہیں ہوتا

یا، تُو نے محبت ہی بنائی نہیں ہوتی

یا پیار کا جذبہ یہاں عنقا نہیں ہوتا

اک میرے مقدر میں نہیں ساتھ کسی کا

ہونے کو تو دنیا میں بھلا کیا نہیں ہوتا

کیا تیری خدائی میں کمی آتی آئے اللہ

تنہا مجھے دنیا سے گزارا نہیں ہوتا

ہم بھی تو فرشتوں میں کہیں آپ کے ہوتے

جنت سے ہمیں یوں جو نکالا نہیں ہوتا

گلزیب پکارے ہے جو اللہ کو دل سے

دشمن کے کبھی سامنے پسپا نہیں ہوتا


گلزیب زیبا

No comments:

Post a Comment