صفحات

Monday, 5 December 2022

اس زلف گرہ گیر کا بل کھانا نیا ہے

 اس زلفِ گِرہ گیر کا بل کھانا نیا ہے

اس بزم میں شاید کوئی دیوانہ نیا ہے

آیا ہے بڑے شوق سے محفل میں سِتمگر

اے شمع! ذرا سوچ لے؟ پروانہ نیا ہے

دیکھیں ہیں زمانے میں حسیں اور بھی لیکن

اس غیرتِ گلِ ناز کا اِترانا نیا ہے

اے رِند! قدم اپنا ذرا سوچ کے رکھنا

ساقی بھی نیا اور یہ مے خانہ نیا ہے

افسانے بہت درد کے دنیا نے سنے ہیں

اے درد! تِرے درد کا افسانہ نیا ہے


درد سرونجی

No comments:

Post a Comment