صفحات

Monday, 5 December 2022

پرکھ سکو تو محبت کا اک مزاج ہیں ہم

 پرکھ سکو تو محبت کا اک مزاج ہیں ہم

کل اس طرح نہیں مل پائیں گے جو آج ہیں ہم

کوئی خطائے محبت ازل میں کر لی تھی

زبان شعر میں بھیجا ہوا خراج ہیں ہم

اس اک ہنر سے خدا سب کو فیض یاب کرے 

کہ اب بھی جس کے لیے وقف احتیاج ہیں ہم

سنا ہے گھاؤ ملے ہیں تجھے بہت گہرے 

تُو ہم سے مل کہ تِرے گھاؤ کا علاج ہیں ہم 

کسی کی یاد میں عمر اپنی ہو رہی ہے بسر 

کسی کے عہدِ وفا کی نسیم! لاج ہیں ہم 


وضاحت نسیم

No comments:

Post a Comment