صفحات

Friday, 2 December 2022

اس کو نہیں ہے ڈر کسی چشم سیاہ کا

 اس کو نہیں ہے ڈر کسی چشمِ سیاہ کا

یہ دل تو اک ملنگ ہے اس خانقاہ کا

میں تو یہاں پہ رند ہوں، مستی میں مست ہوں

زاہد سے جا کے پوچھ لیں مطلب گناہ کا

جس آنکھ نے سکھائی ہے مصرع گری ہمیں

حصہ اسے بھی جاتا ہے شعروں پہ واہ کا

اب مجھ میں اور دشت میں آ کر تمیز کر

جھگڑا بنا ہوا ہے یہاں خوامخواہ کا

جتنے گلاب ہوتے تھے اتنے نہیں رہے

نقشہ بدل گیا ہے مِری خواب گاہ کا

اے اہلِ غور و فکر دعائیں دو چور کو

کاسہ اٹھا کے لے گیا ہے بادشاہ کا


شہریار حیدر

No comments:

Post a Comment