صفحات

Friday, 2 December 2022

برمودا کی نیک مثلث جیسی ہو

 برمودا کی نیک مثلث جیسی ہو

مجھ کو کھینچا ہے تو خود میں ڈوبی ہو

دوزخ کی ہو آگ، مصلیٰ جنت کا

دو جسموں کی ایک قضائے عمری ہو

یہ بنجارہ تیری چوکھٹ چومے گا

رب چاہے گا تیری سیپ میں موتی ہو

پیتل کے پیالے میں ماہی دن لادے

پیپل کی چھاؤں میں سرخ صبوحی ہو

میں پنجاب کے دریاؤں کی بھوکی پیاس

تم کشمیری جھرنوں جیسی لڑکی ہو

اکثر تو کھڑکی کے رستے کود کے تم

دروازے کی حاجت زندہ رکھتی ہو

کُن سے ہو کے آئے یار کلوننگ تک

دل حسنی کا طور سے کوہ چاغی ہو


ذوالقرنین حسنی

No comments:

Post a Comment