صفحات

Friday, 2 December 2022

عقیدت سے اگر وہ ہاتھ میرے چوم جاتا ہے

عقیدت سے اگر وہ ہاتھ میرے چوم جاتا ہے

کئی ذہنوں میں اس کا بھی غلط مفہوم جاتا ہے

یہ رب نے فیض رکھا ہے ہماری بے نیازی میں

اسی کی جھولی بھر جاتی ہے جو محروم جاتا ہے

تو کیا اتنے تجاوز پر کسی کا سر قلم کر دیں

خوشی میں آدمی اکثر زیادہ جھوم جاتا ہے

میں دو متضاد بہتے ایسے دریاؤں کی زد میں ہوں

کہ چلتے پانیوں کو دیکھ کر سر گھوم جاتا ہے

دکانداروں کو یاد آتے ہیں دن اس کی جوانی کے

وہ سارے رنگ اٹھا کر جب ٹرائی روم جاتا ہے


اظہر فراغ

No comments:

Post a Comment