عقیدت سے اگر وہ ہاتھ میرے چوم جاتا ہے
کئی ذہنوں میں اس کا بھی غلط مفہوم جاتا ہے
یہ رب نے فیض رکھا ہے ہماری بے نیازی میں
اسی کی جھولی بھر جاتی ہے جو محروم جاتا ہے
تو کیا اتنے تجاوز پر کسی کا سر قلم کر دیں
خوشی میں آدمی اکثر زیادہ جھوم جاتا ہے
میں دو متضاد بہتے ایسے دریاؤں کی زد میں ہوں
کہ چلتے پانیوں کو دیکھ کر سر گھوم جاتا ہے
دکانداروں کو یاد آتے ہیں دن اس کی جوانی کے
وہ سارے رنگ اٹھا کر جب ٹرائی روم جاتا ہے
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment