یہ جو رنگین تبسم کی ادا ہے مجھ میں
مجھ کو لگتا ہے کوئی میرے سوا ہے مجھ میں
خود بھی حیراں ہوں ازل سے کہ یہ کیا ہے مجھ میں
کون شہ رگ سے مِری بول رہا ہے مجھ میں
عمر بھر جس کو تِرے غم کی امانت سمجھا
اب وہی تارِ نفس ٹوٹ گیا ہے مجھ میں
میرے قدموں پہ زمانے کی جبیں جھک جائے
دیوتاؤں کی طرح ایک انا ہے مجھ میں
تم تو کُن کہہ کے نگاہوں سے چھپے ہو لیکن
ہر گھڑی ایک نیا حشر بپا ہے مجھ میں
کون تھا جو مِرے احساس کو روشن کرتا
عمر بھر صرف مِرا دل ہی جلا ہے مجھ میں
تلخ کامی سے تو کچھ اور نکھرتی ہے حیات
کس لیے زہر کوئی گھول رہا ہے مجھ میں
مسعودہ حیات
No comments:
Post a Comment