صفحات

Tuesday, 7 March 2023

جب الجھن اپنے ڈورے ڈالے

جب الجھن اپنے ڈورے ڈالے

یا تنگ ہو جائیں غم کے ہالے

تو یادیں باتیں کرتی ہیں

ماضی کے قصے جب یاد آئیں

خوشیاں کھائیں اور سو جائیں

آنکھیں اشک سے دھو جائیں

تو یادیں باتیں کرتی ہیں

اپنے پھیر لیں منہ سارے

بڑھتے جائیں دکھ کے دھارے

اوندھے پڑے جائیں تدبیر کے دھارے

تو یادیں باتیں کرتی ہیں

دیکھ کے ہنستے کھیلتے بچے

گھومیں سامنے ساتھی سچے

اور سچی باتیں وعدے کچے

تو یادیں باتیں کرتی ہیں


ثمرین افتخار

No comments:

Post a Comment