جب الجھن اپنے ڈورے ڈالے
یا تنگ ہو جائیں غم کے ہالے
تو یادیں باتیں کرتی ہیں
ماضی کے قصے جب یاد آئیں
خوشیاں کھائیں اور سو جائیں
آنکھیں اشک سے دھو جائیں
تو یادیں باتیں کرتی ہیں
اپنے پھیر لیں منہ سارے
بڑھتے جائیں دکھ کے دھارے
اوندھے پڑے جائیں تدبیر کے دھارے
تو یادیں باتیں کرتی ہیں
دیکھ کے ہنستے کھیلتے بچے
گھومیں سامنے ساتھی سچے
اور سچی باتیں وعدے کچے
تو یادیں باتیں کرتی ہیں
ثمرین افتخار
No comments:
Post a Comment