تم کسی اور کو چن لو گے ہمارے ہوتے
ہم نے سوچا ہی نہیں تھا یہ تمہارے ہوتے
تُم پہ کھلتا کہ خساروں میں بھی لطف آتا ہے
تُم کسی شخص سے گر جیت کے ہارے ہوتے
ہجر لازم تھا مگر وصل کے لمحے، دُکھ ہے
ہم نے دو چار سہی، اور گزارے ہوتے
تُم کو ٹکڑوں میں محبت کا صلہ کیا دیتے
تُم کبھی چھوڑ کے دنیا کو ہمارے ہوتے
اُن کی قیمت میں تمہیں دونوں جہاں دے دیتا
تُم نے کنگن مِرے ہاتھوں میں اُتارے ہوتے
عاصم رضا
No comments:
Post a Comment